World
برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک فیول ذخائر پر بات چیت
برطانوی حکومت نے ایندھن کی ممکنہ قلت سے نمٹنے اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے یورپی شراکت داروں سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ یہ اقدامات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی دھمکی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ نے عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی ممکنہ غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اپنے یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ ہنگامی رابطے شروع کر دیے ہیں۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ملک کے اسٹریٹجک فیول ذخائر کو فوری طور پر مارکیٹ میں جاری کیا جائے تاکہ ایندھن کی رسد کو مستحکم رکھا جا سکے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے اندر ایندھن کی بلند قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے مقامی مارکیٹ میں سپلائی بہتر ہوگی اور صارفین کو ریلیف ملے گا، تاہم اس کا اثر بین الاقوامی سپلائی چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر واقعی پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس سے عالمی منڈی میں ایک بار پھر ہلچل مچ سکتی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر برطانیہ نے پیشگی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں توانائی کے بحران سے بچا جا سکے۔ برطانوی حکومت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام ممکنہ لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے تاکہ توانائی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی تعطل کو روکا جا سکے اور گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کو بھی محفوظ رکھا جائے۔