LIVE
Loading Breaking News...

روزبنک آئل فیلڈ اور مغربی کنارے کی پابندیوں کا معاملہ

News Image
برطانوی وزیر اعظم کو خبردار کیا گیا ہے کہ روزبنک آئل فیلڈ کے اسرائیلی فرم کے ساتھ مبینہ روابط مغربی کنارے سے متعلق بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی اور دیگر مہم چلانے والوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی حکومت کو روزبنک کے متنازع تیل اور گیس کے منصوبے کے حوالے سے ایک بار پھر شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مہم چلانے والوں اور گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے وزیر اعظم کو باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ روزبنک آئل فیلڈ کے بعض اسرائیلی فرموں کے ساتھ مبینہ روابط موجود ہیں، جو کہ مغربی کنارے میں جاری سرگرمیوں کے تناظر میں بین الاقوامی پابندیوں کی سنگین خلاف ورزی بن سکتے ہیں۔ اس انتباہ کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور حکومت پر اس معاملے کی فوری جانچ پڑتال کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، روزبنک پروجیکٹ اپنی ابتدائی مراحل سے ہی ماحولیاتی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں کی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ تازہ ترین انکشافات نے اس منصوبے کو محض ماحولیاتی تنازع سے نکال کر ایک بڑے سفارتی اور قانونی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کے مالیاتی یا کاروباری روابط کسی ایسی اسرائیلی کمپنی سے جڑے ہیں جو مغربی کنارے کے متنازعہ علاقوں میں سرگرم ہے، تو برطانوی حکومت کو اس پر فوری اور سخت موقف اپنانا چاہیے۔ گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ کو اپنے قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو ہر حال میں یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی مکمل شفاف تحقیقات کرے کہ آیا روزبنک فیلڈ کے شراکت داروں کا ایسے کسی نیٹ ورک سے کوئی تعلق تو نہیں جو مقبوضہ علاقوں میں پابندیوں کی زد میں آتا ہو۔ اس پیش رفت نے برطانوی وزیر اعظم کے لیے ایک نئی گھسن کھڑی کر دی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توانائی کے امور اور ماحولیاتی پالیسیوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔