World
جیلوں میں گنجائش کا بحران: نئی اسکیم کے تحت قیدیوں کی قبل از وقت رہائی
برطانیہ میں جیلوں کے اندر گنجائش کا بحران حل کرنے کے لیے ایک نئی قبل از وقت رہائی اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت جون 2027ء تک مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے چار ہزار قیدیوں کو رہا کیے جانے کا امکان ہے۔
برطانیہ میں جیلوں کے نظام کو شدید دباؤ سے نکالنے اور وہاں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک متنازعہ لیکن اہم اقدام کے طور پر نئی قبل از وقت رہائی کی اسکیم پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد جیلوں کے اندر گنجائش کے بحران سے نمٹنا ہے تاکہ نئے مجرموں کو رکھنے کے لیے جگہ دستیاب ہو سکے۔ اس اسکیم کے نفاذ کے بعد اب سیکڑوں مجرموں نے اپنی سزائیں پوری ہونے سے پہلے ہی جیلوں سے نکلنا شروع کر دیا ہے، جو کہ ملکی محکمہ انصاف کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔
حکومتی اور انتظامی ذرائع کے مطابق اس جامع منصوبے کے تحت آئندہ چند سالوں یعنی جون 2027ء تک تقریباً ساڑھے چار ہزار قیدیوں کو قبل از وقت رہا کیے جانے کی توقع ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی ریکارڈ تعداد اور عملے کے مسائل کی وجہ سے حکومت پر کافی عرصے سے دباؤ تھا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا کوئی فوری حل نکالے۔ نئی اسکیم کے تحت صرف انہی قیدیوں کو یہ رعایت دی جا رہی ہے جو پرتشدد جرائم میں ملوث نہیں ہیں اور جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ معاشرے کے لیے براہ راست خطرہ نہیں بنیں گے۔
تاہم، اس اسکیم پر مختلف حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف عدالتی اور انتظامی شعبے اس فیصلے کو جیلوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بعض عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح خطرناک یا عادی مجرموں کو معاشرے میں قبل از وقت چھوڑنے سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کا مؤقف ہے کہ جیلوں کے مکمل طور پر بھر جانے کے بعد نظام کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور موثر راستہ باقی نہیں بچا تھا، اور یہ اقدام مجرموں کی اصلاح کے عمل کا بھی ایک حصہ ہے۔