LIVE
Loading Breaking News...

سابق باس کے حملے کی متاثرہ خاتون کو رہائی کی اطلاع نہ ملنے پر سوالات

News Image
برطانیہ میں اپنے باس کے چاقو کے وار سے بچ جانے والی حنہ پريچیٹ کو یہ بتانے میں پانچ ماہ کی تاخیر کی گئی کہ ان کا حملہ آور جیل سے رہا ہو چکا ہے۔ اس واقعے نے انصاف کے نظام اور متاثرین کو باخبر رکھنے کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانیہ میں ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون کو اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کرنے والے سابق باس کی جیل سے قبل از وقت رہائی کی اطلاع پانچ ماہ تک نہیں دی گئی۔ متاثرہ خاتون حنہ پريچیٹ نے اس صورتحال پر شدید صدمے اور غصے کا اظہار کیا ہے اور حکام کی غفلت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ واقعہ کے مطابق حنہ پريچیٹ کو ان کے باس نے چاقو کے وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا، تاہم وہ طویل طبی اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنے کے بعد اس جان لیوا حملے سے جان بچانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ قانون کے مطابق مجرم کو سزا سنائی گئی تھی لیکن جب اسے جیل سے رہا کیا گیا تو متاثرہ خاتون کو اس بارے میں بروقت آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ حنہ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ جس شخص نے ان پر جان لیوا حملہ کیا تھا وہ اب آزاد گھوم رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام کی ایک بڑی ناکامی ہے جو متاثرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے دعوے کرتا ہے لیکن انہیں اپنے تحفظ کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی حکومت اور محکمہ جیل خانہ جات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ قانون دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجرموں کی رہائی کے وقت متاثرین کو مطلع کرنے کا نظام انتہائی ناقص ہے جس میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکام کی جانب سے اس تاخیر پر تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندمناک واقعات سے بچا جا سکے اور متاثرین کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں تاکہ وہ اپنی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات اٹھا سکیں۔