LIVE
Loading Breaking News...

مدینہ میں پاور اسٹیشن پر حملہ، سعودی اتحاد کا حوثی باغیوں پر الزام

News Image
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ میں ایک پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے شہر تعز میں سرکاری فوج نے حوثی باغیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں واقع ایک پاور اسٹیشن کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد کے حکام کے مطابق اس تخریب کاری کے پیچھے یمنی حوثی باغیوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے ایک بار پھر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور اتحادی فورسز صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔ اسی دوران یمن کے اندرونی محاذ پر بھی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی سرکاری فوج نے تعز کے علاقے میں حوثی باغیوں کے خلاف موثر کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ سرکاری فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حالیہ جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران حوثی باغیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ یمن کے مختلف حصوں میں جاری ان جھڑپوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان کشمکش ہنوز برقرار ہے اور سیاسی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک نے مدینہ میں پاور اسٹیشن پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی اتحاد نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں، سرحدوں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھائے گا اور حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔