Business
کینیڈا کی نئی آئل پائپ لائن پالیسی، امریکی انحصار میں کمی
کینیڈا کی حکومت نے معیشت کا دائرہ کار وسیع کرنے اور امریکی انحصار کم کرنے کے لیے ایک بڑی آئل پائپ لائن کے منصوبے کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے توانائی کے شعبے کو نئے راستے فراہم کرنا اور برآمدات کو متنوع بنانا ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے اپنی معیشت کو روایتی طور پر امریکہ پر انحصار کرنے کی روش سے نکالنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑے پیمانے پر آئل پائپ لائن کے منصوبے کو تیز رفتار سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ملک کی توانائی کی برآمدات کے راستوں کو متنوع بنانا اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے تاکہ کسی بھی ایک مارکیٹ پر حد سے زیادہ انحصار کو ختم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں حکومتی عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ ملکی معاشی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔
حکام کی جانب سے اس اہم پائپ لائن کے منصوبے کو 'قومی مفاد کا منصوبہ' قرار دے دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی منظوری کے مراحل کو انتہائی آسان اور ہموار بنایا جا رہا ہے۔ اب اس منصوبے کو طویل اور پیچیدہ وفاقی ضابطہ کار کے متعدد مراحل سے گزرنے کے بجائے ایک ہی مربوط وفاقی ریگولیٹری جائزے کے تحت پرکھا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم ہوں گی بلکہ منصوبے کی تکمیل میں لگنے والے وقت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا یہ قدم ایک دور اندیشانہ فیصلہ ہے کیونکہ اس سے ملک کی توانائی کی صنعت کو نئی زندگی ملے گی۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اپنی معیشت کے تحفظ اور خطرات کو کم کرنے کے لیے دنیا کے دوسرے حصوں بالخصوص ایشیائی اور یورپی منڈیوں تک تیل اور گیس کی رسائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کی جلد تکمیل سے کینیڈا کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں اس پائپ لائن کے حوالے سے مزید عملی اقدامات متوقع ہیں جن پر تمام متعلقہ محکمے تیزی سے کام کریں گے۔ حکومت کے اس عزم کو کاروباری حلقوں اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی طرف سے بھی سراہا جا رہا ہے، جن کا ماننا ہے کہ اس سے ملک کے تجارتی توازن میں بہتری آئے گی اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔