World
فرانسیسی اسکولوں میں احتجاج اور ہنگامے، سیکڑوں طلباء گرفتار
فرانس میں اسکولوں میں طلباء کی بڑی تعداد، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ پولیس نے پرتشدد مظاہروں کے دوران سیکڑوں طلباء کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
فرانس بھر کے تعلیمی اداروں میں جاری مسائل کے خلاف طلباء کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں کلاس رومز میں طلباء کی زیادہ تعداد، اساتذہ کی شدید کمی اور عمارتوں کی خستہ حالی کے خلاف طلباء سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں اسکولوں کے باہر شدید ہنگامے دیکھنے میں آئے ہیں اور بعض مقامات پر مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک معطل کر دی۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی اور تعلیمی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔ فرانسیسی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر سے سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن عامہ کو برقرار رکھنے اور املاک کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے پولیس کو یہ اقدامات کرنا پڑے۔ اس صورتحال کے باعث متعدد علاقوں میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، طلباء تنظیموں اور یونینز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کرے تاکہ طلباء اور اساتذہ کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج کا یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔ فرانسیسی حکومت کے وزراء اور تعلیمی حکام اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس کر رہے ہیں تاکہ اسکولوں کے بحران کا کوئی پائیدار حل نکالا جا سکے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔