World
اسرائیلی فوجی حراست میں فلسطینی بچوں کی صورتحال اور انسانی حقوق
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی فوجی حراست میں موجود فلسطینی بچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے جانے والے بچوں کو بنیادی قانونی حقوق اور منصفانہ ٹرائل تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلاحی اداروں نے اسرائیلی فوجی حراست میں فلسطینی بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک پر ایک بار پھر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، تنازعات کے علاقوں سے گرفتار کیے جانے والے ان نابالغ بچوں کو اکثر سخت جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور بچوں کے حقوق کے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں کو زیادہ تر ایسے مقدمات کا سامنا ہوتا ہے جہاں انہیں فوجی عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں انہیں مناسب قانونی نمائندگی اور منصفانہ ٹرائل کے مواقع نہیں ملتے۔ حراست کے دوران ان بچوں پر اعتراف جرم کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، اور کئی مرتبہ انہیں ان کے والدین یا وکلاء سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، جو کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔
فلسطینی اور بین الاقوامی تنظیمیں طویل عرصے سے اسرائیل سے مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہیں کہ وہ فوجی نظامِ انصاف میں بچوں کے حوالے سے خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ کرے۔ تاہم، زمینی حقائق میں اس حوالے سے بہت کم بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ان بچوں کی نفسیاتی صحت تباہ ہو رہی ہے بلکہ ان کا مستقبل بھی شدید خطرے میں پڑ رہا ہے۔
دنیا بھر کے انسانی حقوق کے دفاع کرنے والے اداروں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کی گرفتاری اور حراست کے اس نظام کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خطے میں معصوم بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور انہیں منصفانہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔