World
پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے اور تازہ صورتحال
پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ افغان طالبان کے مطابق ان حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت نو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ حملے انتہائی نپا تولا اور ہدف کے تعین کے بعد کیے گئے جن کا مقصد ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تدارک اور شرپسند عناصر کا خاتمہ ہے۔ ان حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ سرحدی امور پر پہلے ہی دونوں حکومتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔دوسری جانب افغان طالبان کی حکومت نے ان فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ افغان حکام اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی فضائیہ کی بمباری کے نتیجے میں افغانستان کے اندر نو افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں مبینہ طور پر خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے اس کارروائی کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس سے خطے کا امن مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ادھر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات حالیہ چند برسوں میں تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کی طرف سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جسے افغان طالبان تسلیم نہیں کرتے۔ اس تازہ فضائی کارروائی نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔