World
امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں، آٹو اور ریلوے سیکٹر ہدف
امریکہ نے بحری گزرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد ایران کے آٹو اور ریل کے شعبوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایران کے ہتھیاروں کے حصول کے نیٹ ورک اور شیڈو بینکنگ کو کمزور کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھاتے ہوئے اس کے آٹوموبائل اور ریلوے کے شعبوں کو نئی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر ناکہ بندی کے نتیجے میں شپنگ کے راستے شدید متاثر ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد تہران کے ہتھیاروں کے حصول کے نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کو مفلوج کرنا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق، نئی پابندیوں کے دائرے میں تیرہ ایسے افراد اور اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ایران کے لیے عسکری سازوسامان کی فراہمی اور شیڈو بینکنگ نیٹ ورک چلانے میں ملوث ہیں۔ ان اقدامات سے تہران کی حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کیا جا سکے۔ دوسری جانب، خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات دوسرے ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ اسرائیل نے دبئی میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے خصوصی ریسکیو پروازوں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ فضائی اور بحری سفر کے نظام میں نمایاں خلل پڑا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ تازہ ترین پابندیاں تہران حکومت کے خلاف جاری اسٹریٹجک مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو اپنے جوہری اور عسکری پروگراموں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں اور معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ سپلائی چین پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی رہنما اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔