Technology
ایف بی آئی کی جانب سے جعلی ڈیٹنگ ایپس اور اے آئی فراڈ پر سخت وارننگ
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ سائبر مجرم مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جعلی ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اب محض جعلی پروفائلز ہی نہیں بلکہ پوری کی پوری نقلی ایپلیکیشنز بنائی جا رہی ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے حالیہ دنوں میں ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں شہریوں کو جعلی ڈیٹنگ ایپلیکیشنز اور آن لائن فراڈ سینٹرز سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری طرف سائبر مجرموں نے بھی جرائم کے نئے اور خطرناک طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق مجرم اب مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ڈیٹنگ کی دنیا میں نہ صرف فرضی چہرے اور جعلی پروفائلز تخلیق کر رہے ہیں بلکہ پوری کی پوری نقلی ایپس تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو دیکھنے میں بالکل مستند معلوم ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ اب محض چند سو ڈالر تک محدود نہیں رہے بلکہ متاثرین کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں ایک عالمی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ماں نے اپنے پیاروں کی محبت کے دھوکے میں آ کر لگ بھگ ایک لاکھ چالیس ہزار برطانوی پاؤنڈز ان سائبر جعل سازوں کو گنوا دیے۔ یہ مجرم پہلے متاثرہ شخص کے ساتھ ڈیٹنگ پلیٹ فارمز پر جذباتی تعلق بناتے ہیں اور پھر مختلف طریقوں سے رقم بٹورنے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے جرائم میں مصنوعی ذہانت کا کردار انتہائی خطرناک ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی دھوکے کو اتنی صفائی سے پیش کرتی ہے کہ عام انسان کے لیے اصلی اور نقل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایف بی آئی اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن ڈیٹنگ یا رشتوں کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کسی بھی غیر معروف یا نئی ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ، آن لائن دوستوں کی طرف سے مالی مدد یا رقوم کی منتقلی کے مطالبات کو ہمیشہ مشکوک نگاہ سے دیکھا جائے۔ اگر کوئی فرد اس قسم کے کسی فراڈ کا شکار ہو جائے تو اسے فوری طور پر متعلقہ سیکیورٹی اداروں یا شکایت مراکز سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت کارروائی کر کے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور مزید مالی نقصان سے بچا جا سکے۔