LIVE
Loading Breaking News...

سیم آلٹ مین کو بچوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی پوڈ کاسٹ پر تنقید کا سامنا

News Image
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین کو بچوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی پوڈ کاسٹ کے آئیڈیا پر عوامی اور ماہرین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نشوونما کے لیے مصنوعی ذہانت کا اس طرح کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹ مین کو حال ہی میں بچوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی پوڈ کاسٹ کے ایک نئے خیال پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد تکنیکی ماہرین، والدین اور بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کم عمر بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے مصنوعی ذہانت کا اس طرح کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے بچوں کی حساس عمر اور ان کی نفسیات کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔ دوسری جانب، اس تنازعے نے ایک بار پھر اس عالمی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ بچوں کی زندگیوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار کس حد تک ہونا چاہیے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے انسانی رابطوں، اساتذہ اور والدین کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ڈیجیٹل چیٹ بوٹس کی۔ اس طرح کے پوڈ کاسٹس یا آڈیو ٹولز بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر سکتے ہیں اور ان میں تنہائی کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں کی طرف سے اس خیال کو رد کیا جا رہا ہے اور اوپن اے آئی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کے لیے ایسے مصنوعات متعارف کرانے سے گریز کریں۔ سیم آلٹ مین کی جانب سے اس تنقید پر تاحال کوئی حتمی یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اوپن اے آئی ماضی میں بھی اپنی مصنوعات کی حفاظت اور بچوں پر ان کے اثرات کے حوالے سے سوالات کی زد میں رہی ہے۔ کمپنی کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اے آئی کو محفوظ اور تعمیری انداز میں پیش کرنا چاہتی ہے، لیکن ناقدین اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ اوپن اے آئی اس دباؤ کے بعد اپنے اس مجوزہ منصوبے پر نظر ثانی کرتی ہے یا اسے مزید کسی احتیاطی تدبیر کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے۔