World
کرسٹا پائیک سزائے موت ناکامی اور ہسپتال میں طبی حالت کی تازہ ترین صورتحال
ٹینسیسی ہسپتال میں زہر کے ذریعے موت دینے کی دو کوششیں ناکام ہونے کے بعد کرسٹا پائیک کی حالت کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹر نے ہسپتال کے باہر سے صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینسیسی میں سزائے موت کی سزا پانے والی مجرمہ کرسٹا پائیک کے معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب انہیں زہر کے انجکشن کے ذریعے موت دینے کی دو مسلسل کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اس ڈرامائی واقعے کے بعد ملنے والی اطلاعات کے مطابق پائیک کو فوری طور پر ایک مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار آئیون ویلز نے ٹینسیسی کے اس ہسپتال کے باہر سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل حکام کی طرف سے اس سنسنی خیز معاملے پر انتہائی سخت سکیورٹی اور رازداری برتی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق، عدالتی احکامات کے تحت کرسٹا پائیک کو دی جانے والی سزائے موت کے دوران تکنیکی اور طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے دو مرتبہ مہلک انجکشن دینے کی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے ملک بھر میں ایک بار پھر سزائے موت کے طریقۂ کار اور اس کے اخلاقی و قانونی پہلوؤں پر شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی ماہرین اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ہسپتال کے باہر میڈیا کا جم غفیر ہے اور رپورٹرز مسلسل اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ مجرمہ کی تازہ ترین طبی حالت اور آئندہ کے قانونی لائحہ عمل کے بارے میں مستند معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اگرچہ ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی طبی بلیٹن جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک کو سخت حفاظتی حصار میں رکھا گیا ہے۔ اس ناکام کارروائی کے بعد اب عدالتیں اور قانونی ٹیمیں آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہی ہیں کہ آیا اس سزائے موت پر دوبارہ عمل درآمد کی کوشش کی جائے گی یا اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی۔