World
آسٹریلیا میں بوگونگ پروانوں کا حملہ اور اچانک یلغار
آسٹریلیا کے مشرقی شہروں میں بوگونگ قسم کے پروانوں کی اچانک بڑی تعداد میں آمد نے شہریوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ کیڑے گھروں اور گاڑیوں میں گھس رہے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔
آسٹریلیا کے مشرقی ساحلوں پر ان دنوں ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز قدرتی منظر دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بوگونگ پروانوں (Bogong moths) کی اچانک بہت بڑی تعداد میں آمد نے سڈنی اور کینبرا جیسے بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان پروانوں کی اس اچانک یلغار نے نہ صرف عام شہریوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ ماہرینِ حیاتیات کی توجہ بھی مبذول کروا لی ہے۔ لوگ اپنے گھروں، دکانوں اور یہاں تک کہ گاڑیوں کے اندر ان کی موجودگی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس قسم کے پروانے عام طور پر مخصوص موسمی حالات اور افزائشِ نسل کے چکر کے دوران لمبا سفر طے کرتے ہیں۔ تاہم، ان کی اتنی بڑی تعداد میں شہری علاقوں کا رخ کرنا اور رہائشی عمارتوں میں گھس جانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروانے روشنی کی طرف مائل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ رات کے وقت شہری علاقوں کی چمکدار روشنیوں سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں کو اپنے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ ان کی آمد کوروکا جا سکے۔
ماحولیاتی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا موسمیاتی تبدیلیوں یا خوراک کی دستیابی میں کمی نے ان پروانوں کے ہجرت کے روایتی راستوں کو تبدیل کیا ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں لیکن حالیہ لہر کا پیمانہ کافی وسیع دکھائی دیتا ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں کیونکہ یہ پروانے زہریلے نہیں ہوتے اور انسانوں کو براہِ راست نقصان نہیں پہنچاتے۔
حکام اور سائنسی اداروں کا ماننا ہے کہ یہ پروانے موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی خود بخود اپنے پرانے مسکن یا پہاڑی علاقوں کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔ اس دوران، وائلڈ لائف محکمے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کیڑوں کے ساتھ محتاط رویہ اختیار کریں اور ماحول دوست طریقوں سے ان سے نبردآزما ہوں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر انسان اور جنگحی حیات کے درمیان بڑھتے ہوئے میل جول اور ماحولیاتی توازن پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔