LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ۹۴ سالہ یہودی کارکن کی فلسطین حامی احتجاج پر گرفتاری

News Image
برطانیہ میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے پر ۹۴ سالہ یہودی کارکن کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس گرفتاری پر انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
برطانیہ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران انتہائی معمر یہودی کارکن اور بیرسٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق چونتیس سالہ اس یہودی وکیل اور کارکن کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ فلسطینی کاز کے حامی گروپ فلسطین ایکشن کی حمایت میں منعقدہ ایک ریلی میں شریک تھے۔ اس گرفتاری نے برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے طریقوں پر ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مظاہرے کے دوران ضابطے کی خلاف ورزی یا دیگر سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کارروائی کی، تاہم اس عمر رسیدہ شخصیت کی گرفتاری نے سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آوازوں اور احتجاجی تحریکوں کو مزید کوریج مل رہی ہے، جبکہ مختلف تنظیموں نے معمر کارکن کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی حکام کی جانب سے اس گرفتاری کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بار پھر سرخیوں کا حصہ بنا دیا ہے۔