LIVE
Loading Breaking News...

صدر پوٹن کا یوکرین کے ساتھ جنگ بندی سے انکار، جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی

News Image
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ماسکو میں اپنے ایک اہم خطاب کے دوران یوکرین کے ساتھ فی الحال کسی بھی قسم کی جنگ بندی کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے خطے کلیننگراڈ کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دارالحکومت ماسکو میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک روس کے اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں ہو جاتے، فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن ماسکو کی طرف سے اس سخت مؤقف کے بعد امن کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران روسی صدر نے مغربی ممالک اور بالخصوص نیٹو کو کڑے الفاظ میں خبردار کیا کہ وہ روس کی سلامتی کو کم سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس کے بالٹک خطے اور اہم انکلیو کلیننگراڈ کو کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، تو ماسکو اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے دریغ نہیں کرے گا۔ ان کے اس بیان نے مغربی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق صدر پوٹن کا یہ بیان مغربی دنیا کے نام ایک واضح پیغام ہے کہ روس اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح قائم ہے اور وہ دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔ کلیننگراڈ کے دفاع سے متعلق جوہری ہتھیاروں کا انتباہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ روس خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، اس صورتحال نے یوکرین اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے سکیورٹی خدچات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں جنگی شدت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔