Sports
آئرلینڈ میں اسرائیل مخالف احتجاج، میچ میں خلل اور بائیکاٹ کا مطالبہ
آئرلینڈ میں کھیلے جانے والے ایک میچ کے دوران مظاہرین نے فضا میں ٹینس بالز پھینک کر اور فلسطین کے پرچم لہرا کر کھیل کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس احتجاج کا مقصد آئرلینڈ پر زور دینا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنے دوسرے میچ کا بائیکاٹ کرے۔
جمہوریہ آئرلینڈ میں کھیلے جانے والے ایک اہم کھیل کے دوران اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب مظاہرین نے میدان میں داخل ہو کر کھیل کو عارضی طور پر روک دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ احتجاج اس بڑھتے ہوئے مطالبے کا حصہ تھا جس میں حکومت اور متعلقہ سپورٹس اتھارٹیز سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ شیڈول دوسرے میچ کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ میدان میں موجود مظاہرین نے اپنے ساتھ لائی گئی ٹینس بالز کو کھیل کے دوران گراؤنڈ میں پھینکا اور فلسطینی پرچم لہرا کر اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر حرکت میں آنا پڑا تاکہ حالات کو قابو میں لایا جا سکے اور میدان کو کلیئر کیا جا سکے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ موجودہ عالمی حالات اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کسی بھی ملک کے ساتھ کھیلوں کے معمول کے تعلقات جاری رکھنا نامناسب ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئرلینڈ کو اخلاقی مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ہونے والے آئینڈی میچز سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ کھیل کے دوران اس غیر متوقع رکاوٹ نے تماشائیوں اور منتظمین کو بھی حیرت میں ڈال دیا جبکہ سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔
اس احتجاج کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا سیاسی تنازعات اور انسانی حقوق کے مسائل کو کھیلوں کے میدان تک لایا جانا چاہیے یا نہیں۔ دوسری جانب، منتظمین اور حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے میچز کے دوران ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ آئرلینڈ میں اس واقعے نے اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس بائیکاٹ کی تحریک میں مزید شدت آنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔