World
شام کی حزب اللہ سے خفیہ مذاکرات کی تردید، اہم خبر
شامی حکام نے ترکیہ میں حزب اللہ کے رہنماؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کی خفیہ ملاقات کی تردید کی ہے۔ اس مبینہ ملاقات کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا بتایا گیا تھا۔
شام کی حکومت نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ شامی حکام نے ترکیہ میں حزب اللہ کے رہنماؤں کے ساتھ کچھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں۔ شام کے سرکاری اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی کسی بھی ملاقات کا کوئی وجود نہیں ہے اور میڈیا میں چلنے والی یہ اطلاعات حقائق کے منافی ہیں۔ یہ افواہیں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور متلاطم بنی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، امریکہ، لبنان اور شام کے چھ باخبر ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ مبینہ طور پر یہ ملاقات دونوں فریقین کے مابین تعلقات اور علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ ان ذرائع کا ماننا تھا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اس قسم کے رابطے خطے میں استحکام لانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام اور حزب اللہ کے تعلقات ہمیشہ سے خطے کی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، اور ترکیہ کی سرزمین پر اس طرح کے مبینہ خفیہ رابطوں کی خبریں خطے کے تمام اہم دارالحکومتوں میں گہری دلچسپی کا باعث بنی ہیں۔ تاہم، شام کی طرف سے باضابطہ تردید کے بعد ان قیاس آرائیوں پر فی الحال فلک شگاف وقفہ آ گیا ہے، مگر بین الاقوامی برادری اس پورے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی پیش رفت عالمی امن پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اس تردید کے بعد سفارتی محاذ پر کیا نئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور آیا اس نوعیت کے پس پردہ رابطے واقعی وجود رکھتے ہیں یا نہیں۔