LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک جنسی حملہ قانون: کارنیل یونیورسٹی کے الزامات کے بعد تبدیلی کا مطالبہ

News Image
نیویارک میں نشے کی حالت میں ہونے والے جنسی استحصال کے مقدمات میں قانون کی خامیوں پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے حالیہ واقعات کے بعد متاثرہ افراد اور قانون سازوں کی جانب سے قوانین میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے جنسی زیادتی کے حالیہ الزامات نے نیویارک ریاست کے اس متنازعہ قانون کو ایک بار پھر قومی مباحثے کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جو نشے میں دھت متاثرین کے ساتھ ہونے والے جرائم سے متعلق ہے۔ اس قانون نے قانونی ماہرین، طلباء اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص نے اپنی مرضی سے الکوحل یا منشیات کا استعمال کیا تھا یا نہیں۔ قانون کی اس مبہم نوعیت کی وجہ سے انصاف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ملزمان قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلتے ہیں۔ حالیہ واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ فریق اور طلباء تنظیموں نے نیویارک کے قانون ساز اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضابطہ فوجداری میں فوری طور پر ترامیم لائیں۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون کا نفاذ زیادتی کا شکار ہونے والوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے، خصوصاً جب کوئی شخص نشے کی حالت میں اپنا دفاع کرنے یا رضامندی دینے کے قابل نہ ہو۔ اس صورتحال میں یہ فرق کرنا کہ نشہ مرضی کا تھا یا غیر ارادی، قانون کی بنیادی روح کے منافی ہے اور یہ نظامِ انصاف کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ریاستی قانون سازوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس قوانین کا ازسرنو جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام متاثرین کو یکساں قانونی تحفظ مل سکے۔ قانونی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ نیویارک کے قوانین کو دیگر ترقی یافتہ ریاستوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے حساس مقدمات میں انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر قانون ساز اسمبلی میں اہم بحث متوقع ہے جہاں انسانی حقوق کے کارکن اصلاحات کے لیے مسودہ پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔