LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر وفاقی حکومت کا غور

News Image
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی اور سیاسی بحران کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور موجودہ صورتحال پر مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیاسی صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام اتحادی جماعتوں کے قائدین کو جمع کرنے اور ان سے مشاورتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ ملک کے مؤقر انگریزی اخبارات ڈان، دی نیوز اور دی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی کابینہ اور اعلیٰ حکارتی حلقوں میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں صوبے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے فی الحال اس انتہائی قدم کو حتمی شکل دینے میں کچھ تاخیر کی گئی ہے اور صورتحال کا مسلسل باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ مرکز اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کسی بڑے انتظامی فیصلے پر منتج ہو سکتی ہے۔ وفاقی وزراء کا مؤقف ہے کہ صوبے میں آئینی و انتظامی بحران سے نمٹنے کے لیے آئین میں موجود تمام قانونی آپشنز میز پر موجود ہیں جن کا وقت آنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوری مینڈیٹ پر ڈاکہ قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور صوبے کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی اور مرکز کی کسی بھی غیر آئینی و غیر جمہوری سازش کا سیاسی اور قانونی طور پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔