LIVE
Loading Breaking News...

کرسٹا پائیک کی ناکام سزائے موت اور عالمی ردعمل

News Image
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کو زہر کے انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے جس کے بعد ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے مطالبات میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں مجرمہ کرسٹا پائیک کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اس وقت تشویشناک حالت میں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کی جانب سے دی جانے والی دو جان لیوا انجکشنوں کی خوراک کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں، جسے قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے انتہائی غیر انسانی اور ناکام کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ ان کی مؤکلہ اس وقت انتہائی تشویشناک طبی حالت میں ہیں۔ استعمال ہونے والی دوا پینٹوباربٹل (Pentobarbital) پر پہلے بھی طبی اور اخلاقی حلقوں کی جانب سے شدید سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس ناکام کارروائی نے ایک بار پھر امریکی جیلوں میں پھانسی اور سزائے موت کے نظام کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد عالمی سطح پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں اور رہنماؤں نے سزائے موت کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے مطالبات میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہولناک اور ناکام طریقہ کار بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں جن کا فوری تدارک کیا جانا چاہئے۔