World
فلائی دبئی طیارہ حملہ: اسرائیلی وزیراعظم نتین ہہو کا اہم انکشاف
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران کو پائلٹ نے مبینہ طور پر انتہا پسندانہ نظریات کے تحت کیپٹن پر حملہ کیا۔ واقعے کے بعد تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے پائلٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین ہہو نے دعویٰ کیا ہے کہ فلائی دبئی کی ایک پرواز کے کو پائلٹ نے مبینہ طور پر انتہا پسندانہ اسلامی نظریات اپنا رکھے تھے۔ یہ بیان ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران کو پائلٹ نے طیارے کے کیپٹن پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ برطانوی خبر رساں ادارے اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، مسافروں نے بڑی ہوشیاری اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرواز کو حادثے سے بچا لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ واقعہ سعودی عرب کی فضائی حدود یا لینڈنگ کے قریب پیش آیا جہاں کو پائلٹ نے پائلٹ کو زخمی کیا۔ واقعے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ایوی ایشن سکیورٹی کے امور پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور متعلقہ حکام اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کوئی دہشت گردی کا بڑا نیٹ ورک تو کارفرما نہیں تھا۔ دریں اثنا، فلائی دبئی کے واقعے میں ملوث مبینہ پائلٹ کو مزید تفتیش کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سیکورٹی ادارے اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں کے دوران عملے کی سکیورٹی اور ان کی ذہنی حالت کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنانے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔