World
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: مذاکرات ناکام ہونے پر تباہ کرنے کا انتباہ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے بعد تہران کو شدید نتائج کی دھمکی دی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے خطے میں فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے مزید ہزاروں فوجیوں اور جنگی بحری بیڑے کو تعینات کر دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی سطح پر جاری مذاکرات میں تعطل کے بعد صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے کوئی سمجھوتہ نہ کیا تو امریکہ کے پاس اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ان کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی راہیں بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں جس سے خطے میں کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پینٹاگون اور امریکی دفاعی حکام نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے خطے میں تقریبا نو ہزار اضافی فوجی اور ایک تیسرا بڑا جنگی بحری بیڑا بھی روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ اور دفاعی حلقوں کا موقف ہے کہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے گا اور اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے ایران کے جوہری خطرے کو ایک ہی رات میں حل کرنے کے دعوے کیے تھے، لیکن حالیہ پیش رفت نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکومت نے بھی امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی عسکری تعیناتی اور دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا جارحیت کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائیں گے اور اپنی خود مختاری کا بھرپور دفاع کریں گے۔ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص خلیجی ریاستیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ تمام تر بین الاقوامی کوششوں کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیدا ہونے والا تعطل ٹوٹتا دکھائی نہیں دے رہا، جس سے آنے والے دنوں میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔