LIVE
Loading Breaking News...

کارنیل یونیورسٹی: ریپ کے واقعے پر طلبا کا احتجاج اور غصہ

News Image
کارنیل یونیورسٹی میں طلبہ اسمبلی کی قیادت میں حفاظتی خدشات اور جنسی تشدد کے موضوع پر ایک اہم عوامی سماعت کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے کیمپس میں بڑھتے ہوئے مسائل اور انتظامیہ کے اقدامات پر سخت تشویش اور غصے کا اظہار کیا۔
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں حالیہ دنوں پیش آنے والے جنسی تشدد اور ریپ کے ایک واقعے کے خلاف طلبہ نے زبردست غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ اسمبلی کی قیادت میں ایک عوامی سماعت کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔ اس سماعت کا بنیادی مقصد کیمپس کے اندر طلبہ کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات پر غور کرنا اور انتظامیہ سے سخت اقدامات کا مطالبہ کرنا تھا۔ بی بی سی کی نامہ نگار ندا توفیق نے اس عوامی سماعت کی کوریج کرتے ہوئے بتایا کہ طلبہ میں یونیورسٹی انتظامیہ کے رویے اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے گہرا عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ سماعت کے دوران طلبہ نے اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس جیسے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے گھناؤنے واقعات کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ ہر طالب علم خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ اسمبلی نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ فریق کے ساتھ کھڑی ہے اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالتی رہے گی کہ وہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ کرے اور سیکیورٹی کے موجودہ نظام میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے اجتماعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وہ اپنے حقوق اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔