Technology
اوپن آئی نے حساس معلومات لیک کرنے پر ملازمین نکال دیے
آرٹی فیشل انٹیلی جنس کمپنی اوپن آئی نے حساس معلومات کی مبینہ غلط منتقلی کے الزامات پر اپنے چند سابق ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اندرونی تحقیقات کے بعد کیا گیا جس میں ملازمین پر ڈیٹا باہر کے اے آئی گروپ کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی دنیا کی معروف ترین کمپنی اوپن آئی (OpenAI) نے سکیورٹی اور رازداری کے ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنے کچھ سابق ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان ملازمین کو حساس نوعیت کی معلومات کی مبینہ غلط منتقلی اور ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت تحقیقات کے بعد نکالا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ان ملازمین پر اندرونی ڈیٹا کو ایک بیرونی آرٹی فیشل انٹیلی جنس ایویلویشن گروپ کے ساتھ بلا اجازت شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ کمپنی نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی رازداری یا حفاظتی اقدامات پر سمجھوتہ کرے گی۔ اوپن آئی کی جانب سے جاری کردہ پالیسیوں کے تحت کسی بھی ملازم کے لیے اندرونی تحقیقاتی مواد یا حساس تنظیمی معلومات کو بیرونی اداروں کے ساتھ شیئر کرنا انتہائی سنگین جرم مانا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس انڈسٹری کے اندر ڈیٹا سکیورٹی، اخلاقیات اور کارپوریٹ گورننس پر ایک بار پھر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ویسے ہی کمپنیوں کے اندر حساس ڈیٹا کی حفاظت اور ملازمین کی نگرانی کے قوانین بھی مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ اوپن آئی پہلے ہی دنیا بھر میں جدید ترین لینگویج ماڈلز بنانے کی وجہ سے جانی جاتی ہے اور اس قسم کے واقعات ادارے کے اندر سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید فول پروف بنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین کے حوالے سے مزید تفصیلات تاحال کمپنی کی جانب سے راز رکھی گئی ہیں، تاہم یہ واقعہ دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔