World
کارنیل یونیورسٹی اور طبی نظام میں غفلت، وکیل کا انکشاف
کارنیل یونیورسٹی کے ایک وکیل کے مطابق ایک طالبہ کو اس وقت شدید ذہنی اور جسمانی صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب یونیورسٹی کا طبی نظام اس کی مدد کرنے میں ناکام رہا۔ متاثرہ طالبہ نے ڈاکٹر کو بتایا تھا کہ اسے انفیکشن لاحق ہوچکا ہے لیکن ڈاکٹروں نے اس معاملے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے میں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے طبی نظام کی شدید ناکامی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جین ڈو نامی طالبہ نے یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر کو بتایا تھا کہ اسے ایک تکلیف دہ اور صدمے والے واقعے کے دوران انفیکشن لاحق ہو گیا تھا۔ تاہم اس اہم اور حساس انکشاف کے باوجود طبی عملے نے اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس کی باقاعدہ فالو اپ رپورٹنگ کی گئی۔ متاثرہ طالبہ کے وکیل نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کا صحت کا نظام اپنے طلباء کی بنیادی طبی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ قانونی نمائندے کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی طبی غفلت نہ صرف ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ادارے کی جانب سے اپنے طلباء کی فلاح و بہبود کے تئیں ذمہ داریوں سے غفلت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اس کے طبی شعبے کے کردار پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس طرح کے حساس معاملات میں زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی طالب علم کو اس نوعیت کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس معاملے پر یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے مزید تحقیقات اور ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق اور طلباء کی تنظیموں کی طرف سے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔