World
چاگوس جزائر معاہدہ: برطانیہ اور موریشیس مذاکرات میں تاخیر
برطانیہ اور موریشیس کے درمیان چاگوس جزائر کی خودمختاری کے معاہدے پر مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو گئے ہیں جس سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کی امیدیں تازہ ہوئی ہیں۔ تاہم، طویل تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بزرگ چاگوسی باشندے تشویش میں مبتلا ہیں کہ کہیں ان کی زندگی کا وقت ختم نہ ہو جائے۔
برطانیہ اور موریشیس کے درمیان چاگوس جزائر کی خودمختاری کے حوالے سے طے پانے والے تاریخی معاہدے پر عمل درآمد میں شدید تاخیر کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے فریقین کے مابین تناؤ برقرار ہے۔ حال ہی میں اس رُکے ہوئے معاہدے پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے ان ہزاروں بے گھر افراد کے دلوں میں ایک بار پھر امید کی کرن جاگی ہے جو اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کے خواہشمند ہیں۔ چاگوس جزائر کے یہ مکین طویل عرصے سے اپنے گھروں سے دور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اب وہ اپنے اس حق کے حصول کے لیے مزید انتظار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
دوسری جانب، بزرگ چاگوسی باشندوں کا کہنا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ان میں سے بہت سے افراد اتنے ضعیف ہو چکے ہیں کہ وہ اس بات کا شدید اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ شاید وہ اپنے وطن واپس لوٹنے کا خواب پورا ہوتے ہوئے دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہیں۔ اس معاہدے کے ذریعے جزائر کی خودمختاری موریشیس کو منتقل کی جانی تھی اور ساتھ ہی ڈিয়েگو گارسیا میں موجود اہم برطانوی اور امریکی فوجی اڈے کے طویل مدتی مستقبل کو بھی یقینی بنایا جانا تھا، لیکن سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں نے اس عمل کو سست کر دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ بحال ہونا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس تاخیر نے مقامی آبادی کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ چاگوسی برادری کے نمائندوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کو فوری حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ بزرگ افراد اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے آبائی وطن میں گزار سکیں۔