LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی

News Image
امریکہ نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر دو ہزار میرینز اور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
امریکہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اپنی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے دو ہزار میرینز اور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کے امور پہلے ہی انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں اور بین الاقوامی برادری کسی بھی بڑے تصادم کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ فوجی سازوسامان اور اہلکار خطے میں امریکی مفادات کے دفاع اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ دوسری جانب، اسی دوران آبنائے ہرمز سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک تیل بردار ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سمندر میں جہاز رانی کی سلامتی اور توانائی کی سپلائی لائن کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں امن و امان برقرار رکھنے اور سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ حالیہ ڈیڈ لاک اور عسکری سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی اور عسکری فضا انتہائی کشیدہ رہ سکتی ہے، جبکہ عالمی ادارے دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔