World
غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت، تازہ حملوں میں دو فلسطینی جاں بحق
اکتوبر 2025 میں سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ میں 1,439 فلسطینی شہید اور 5,052 زخمی ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین واقعات میں غزہ میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے اور مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے حملے میں مزید دو فلسطینی جان کی بازی ہار گئے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جہاں تازہ ترین کارروائیوں میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک فلسطینی جاں بحق ہو گیا ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے پرتشدد حملے میں ایک اور فلسطینی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان لرزہ خیز واقعات نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے جہاں عام شہریوں کو مسلسل جارحیت کا سامنا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2025 میں نام نہاد 'سیز فائر' کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 1,439 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 5,052 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے ان ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فائر بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود عام فلسطینی شہریوں کا جینا محال کیا جا چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے کی جانے والی غنڈہ گردی اور تشدد کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ غیر قانونی بستیوں کے مکینوں کی جانب سے فلسطینی املاک، زرعی زمینوں اور عام شہریوں پر حملے معمول بن چکے ہیں، جس سے وہاں کے مقامی باشندوں میں شدید عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فضائیہ اور ڈرونز کی پروازیں اور بمباری کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور اسپتالوں میں ادویات و طبی سامان کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر سفارتی حلقوں نے ایک بار پھر فریقین سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں اس تنازعے کے منصفانہ اور مستقل سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھاتیں، تب تک معصوم فلسطینیوں کا خون بہنے کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا اور خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔