LIVE
Loading Breaking News...

دشمن کی سیاست پر دہشت گردی کے خلاف جنگ مقدم ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

News Image
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے لیے سب سے اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک فوج سیاست سے بالاتر ہو کر ملک کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سب سے مقدم ہے اور اسے کسی کی بھی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقے کوراگ میں پاک فوج سے منسلک کسی فرد کے مبینہ انکاؤنٹر کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ایسے پراپیگنڈے حقیقت کو نہیں بدل سکتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے، جس نے اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد قیمتی جانیں قربان کی ہیں اور معیشت کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی و سماجی تانے بانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مختلف آرا ہو سکتی ہیں لیکن ایک متفقہ قومی لائحہ عمل موجود ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سیاسی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے مل کر نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) اور بعد میں ’عزم استحکام‘ کا وژن تیار کیا تھا، اس لیے اب ان متفقہ دستاویزات پر من و عن عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں دہشت گردی کے باوجود بیانیے میں ابہام پیدا کیا جائے گا اور صلاحیت سازی پر توجہ نہیں دی جائے گی تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ اس رویے کے پیچھے لاعلمی ہے، نااہلی ہے یا پھر جان بوجھ کر کی جانے والی ملی بھگت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سیاست، جمہوریت اور ہماری بقا سب ریاست کے وجود کے ساتھ مشروط ہیں، اس لیے ریاست کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان کو بھارتی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ملک کے سپاہی، افسران، انٹیلی جنس ادارے اور پولیس کے جوان روزانہ کی بنیاد پر اس ناسور کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر دیگر ذمہ دار ادارے یا عناصر اس جنگ میں کھل کر سامنے نہیں آتے تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا یہ بزدلی ہے یا کسی قسم کی سہولت کاری؟ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی صورت روکی نہیں جا سکتی، اس میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے کسی سیاسی فائدے کے لیے قربان کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس معاملے پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ریاست کی بقا اور سلامتی کے لیے پاک فوج اور عوام ہر قیمت پر دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور اس طویل جنگ میں فتح صرف اور صرف پاکستان کی ہوگی کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔