Business
مہنگائی کی شرح میں کمی، ستمبر میں سی پی آئی 10.3 فیصد ریکارڈ
پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر میں صارفین کی مہنگائی کی شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ مہنگائی میں اس کمی کی بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں سست روی اور نمایاں کمی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مہینے میں صارفین کی مہنگائی کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ کم ہو کر 10.3 فیصد پر آ گئی ہے جبکہ اس سے پچھلے ماہ اگست میں یہ شرح 11.1 فیصد تھی۔ مہنگائی کی شرح میں اس ہلکی سی کمی نے اگست کے مہینے میں ہونے والے اس تیز اضافے کا رخ موڑ دیا ہے جب خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں نے سالانہ شرح کو جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھا کر 11.1 فیصد تک پہنچا دیا تھا۔ مہنگائی میں یہ کمی دیہی علاقوں میں زیادہ نمایاں رہی جہاں مہنگائی کی شرح 12.2 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی جبکہ شہری علاقوں میں بھی مہنگائی میں کمی دیکھی گئی اور یہ 10.4 فیصد سے کم ہو کر 10.1 فیصد پر ریکارڈ کی گئی۔ ستمبر کے مہینے کے یہ اعداد و شمار وزارتِ خزانہ کی اس توقع کے اندر بھی رہے ہیں جو اس نے اپنی ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ میں ظاہر کی تھی۔ تاہم سالانہ شرح میں کمی کے باوجود ماہانہ بنیادوں پر ستمبر میں قیمتوں میں 1.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد تھی۔ مہنگائی کی اس مجموعی شرح میں کمی کی سب سے بڑی وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں سست روی بنتی نظر آئی ہے۔ شہری علاقوں میں خوراک کی مہنگائی اگست کے 12.1 فیصد سے کم ہو کر ستمبر میں 8.1 فیصد رہ گئی۔ یہ کمی دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ تیز رفتار رہی جہاں خوراک کی مہنگائی ایک ماہ قبل کے 13.2 فیصد سے کم ہو کر 7.7 فیصد پر آ گئی۔ اس کے برعکس خوراک کے علاوہ دیگر اشیاء یعنی نان فوڈ انفلیشن نے الٹا سفر کیا جو گھریلو اخراجات پر مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ شہری علاقوں میں نان فوڈ مہنگائی اگست کے 9.4 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 11.3 فیصد سے بڑھ کر 13.1 فیصد پر جا پہنچی۔ وزارتِ خزانہ نے اپنے ستمبر کے آؤٹ لک میں پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کے باعث گھریلو توانائی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کے شعبوں میں دباؤ موجود ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں بجلی کے نرخوں اور موٹر فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی عوام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔