LIVE
Loading Breaking News...

افغان سرزمین سے دہشت گردی: پاکستان کا حقِ دفاع برقرار، ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک بیان

News Image
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔
ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کو اپنا دفاع کرنے کا قانونی اور اخلاقی حق حاصل ہے اور دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے جو بھی ضروری اقدام ہوا، وہ ضرور اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کے نقطہ نظر سے ہر وہ قدم اٹھایا جائے گا جو ملکی مفاد میں ہو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی کا معاہدہ ختم کیے جانے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے اس گروہ کو 'فتنہ الخوارج' کا نام دیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز ملک بھر میں ان عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ترجمان نے افغان طالبان رجیم کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر کے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رکھی ہے اور وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دینا ناقابل قبول ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سوال اٹھایا کہ بین الاقوامی میڈیا اور اداروں کو افغان رجیم سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کو کیوں پناہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے باسیوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے وقت، مقام اور طریقہ کار کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل تنازعہ افغان طالبان رجیم کی پالیسیوں اور ان کی طرف سے دہشت گردوں کو دی جانے والی پشت پناہی پر ہے۔ حالیہ سرحدی کشیدگی اور فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں ترجمان نے بتایا کہ ریاست نے ہمیشہ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن جب بھی سلامتی پر آنچ آئی ہے، بھرپور جواب دیا گیا ہے۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغان بارڈر کے قریب دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں بھی کی ہیں جن میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کا یہ عزم مصمم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔