Pakistan
پاکستان کا اقوام متحدہ میں بھارت پر شدید تنقید کا اظہار
پاکستان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ بھارت جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور وہ حق خود ارادیت سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان نے جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے 63 ویں اجلاس کے دوران بھارت کی طرف سے کشمیر اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات سے بچنے کی کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے اپنے حقِ جواب دہی کا استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے ہمیشہ سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے روایتی ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں اور جب بھی اس کے سامنے تلخ حقائق رکھے جاتے ہیں تو وہ فوراً موضوع بدل کر پاکستان کا نام لینا شروع کر دیتا ہے۔ پاکستانی سفارت کار عدیل ایم کھوکھر نے کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے جس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات اور بار بار کے انکار سے اس زمینی حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھارت نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں اس خطے میں آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کرانے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ریاست اپنے دعووں میں سچی ہو وہ اپنے ہی عوام کی رائے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتی۔ عدیل کھوکھر نے مزید انکشاف کیا کہ قابض بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیریوں پر غیر قانونی سزاؤں، من مانی حراستوں اور تشدد کے پے در پے واقعات کو بین الاقوامی رپورٹس میں بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کے قانون (AFSPA) کے مسلسل نفاذ پر سوال اٹھایا جو کہ سیکیورٹی فورسز کو بغیر کسی سرکاری منظوری کے قانونی کارروائی سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس قرار دیا۔ پاکستانی مندوب نے پانچ اگست 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے غیر آئینی اقدامات کو بھی ہدف تنقید بنایا جس میں ڈومیسائل اور زمین کے قوانین میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی خطے کا ڈیموگرافک ڈھانچہ بدلنے کے لیے لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دیے گئے ہیں تاکہ اس کی شناخت کو مٹایا جا سکے، لیکن کشمیریوں کی شناخت تبدیل کر کے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وفد نے بابری مسجد سے لے کر اجین تک مسلم عبادت گاہوں کی سرکاری سرپرستی میں ہونے والی تباہی کا ذکر کیا۔ انہوں نے 2019 کے متنازع شہری ترمیمی قانون (CAA) کا بھی حوالہ دیا جس میں مذہب کو شہریت کی بنیاد بنایا گیا اور مسلمانوں کو اس سے صریحاً خارج کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی نمائندے کے بیانات کا کرارا جواب دیتے ہوئے پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت نے ریاستی سطح پر پروپیگنڈا کو پالیسی بنا لیا ہے اور دہشت برآمد کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔