AI
گوگل نے نیا جیمنی 4 آرگون اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا
گوگل نے مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے اپنا نیا ٹاپ ٹیر اے آئی ماڈل آرگون متعارف کرا دیا ہے۔ سکیورٹی اور حفاظت کے خدشات کے پیش نظر اس ماڈل کو فی الحال عام عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا ہے۔
گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے طویل تاخیر اور اندرونی تبدیلیوں کے بعد اپنے نئے اور انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل ’آرگون‘ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ جیمنی 4 جنریشن کا یہ نیا ٹاپ ٹیر ماڈل اے آئی کی دوڑ میں حریف کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کا مقابلہ کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، گوگل نے سکیورٹی اور ہیکرز کے ہاتھوں ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کے پیش نظر اس ماڈل کو فی الحال عام عوام کے لیے جاری کرنے سے گریز کیا ہے اور اسے صرف تصدیق شدہ سائبر سکیورٹی ماہرین تک محدود رکھا گیا ہے۔ گوگل کے چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کاوکوچوگلو نے اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ اس سطح کی جدید صلاحیتوں کو محفوظ طریقے سے جاری کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ نیا ماڈل پچھلے تمام ایڈوانسڈ پرو ماڈلز کے مقابلے میں سائز میں بڑا اور پیچیدہ ورک لوڈز کے لیے اب تک کا سب سے بہترین کارکردگی کا حامل ماڈل ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل سافٹ ویئر انجینئرنگ، قانونی اور مالیاتی امور کے ساتھ ساتھ سائبر ڈیفنس کے پیچیدہ کاموں میں شاندار کارکردگی دکھاتا ہے، اور اس میں سافٹ ویئر کی خامیوں کو تلاش کرنے اور انہیں دور کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ ابتدائی تجربات کے دوران اس ماڈل کی مدد سے ہسپتالوں کے ایک ایسے سافٹ ویئر میں خامی کا پتہ لگایا گیا جو دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہے اور جس سے حساس ذاتی معلومات خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ یہ نیا اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گوگل کے چیف سندر پچائی سمیت معروف ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کی میزبانی کی، جہاں انہوں نے اپنے اے آئی سسٹمز کے خطرات کو کنٹرول کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین طویل عرصے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو بینکوں، ہسپتالوں اور سرکاری نظاموں کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس محتاط انداز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گوگل نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے تاکہ مسابقتی مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات کو اولین ترجیح دی جا سکے۔ دریں اثنا، گوگل نے اپنے پرانے منصوبوں میں بھی ردوبدل کیا ہے اور اب وہ جیمنی 3.5 پرو ماڈل ریلیز نہیں کرے گا جس کا وعدہ پہلے جون میں کیا گیا تھا۔ اس دوران گوگل کے ڈیپ مائنڈ اے آئی لیب میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں جہاں بانی ڈیمس ہسابس کے ہٹنے اور جیمنی ماڈل کے کئی رہنماؤں کے مستعفی ہونے کی وجہ سے کمپنی کو کچھ عرصہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کے مطابق ان تاخیر کی وجہ سے گوگل کو مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں حریف کمپنیوں کے مقابلے میں کچھ نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم گوگل کا اصرار ہے کہ آرگون ماڈل کی کارکردگی تمام بینچ مارکس پر بہترین ثابت ہوگی۔