World
پاکستان کا مدینہ منورہ میں حوثی حملے پر شدید ردعمل
پاکستان نے مدینہ منورہ میں ایک پاور فیسلیٹی کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس طرح کے حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان نے مدینہ منورہ میں ایک پاور فیسلیٹی پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس واقعے کو ایک سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے جو نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن کا مقصد خطے میں بدامنی پھیلانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی جغرافیائی سالمیت، خودمختاری اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستانی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اس طرح کی جارحانہ کارروائیاں خطے میں امن قائم کرنے کی تمام بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔ واضح رہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی پر عالمِ اسلام کے مختلف ممالک کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سب نے مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر کے قریب اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سعودی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔