World
ترقی پذیر ممالک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور قرضوں کے مسائل
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس وقت سنگین اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایندھن کی سبسڈی میں اضافے اور ممکنہ قرضوں کے بحران نے معاشی صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے سربراہ نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس وقت متعدد سنگین اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور عالمی سطح پر معاشی دباؤ کی وجہ سے دنیا کے غریب اور ترقی پذیر خطے شدید ترین مالی مشکلات کی زد میں آ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ان ممالک کی ترقیاتی پیشرفت کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور کروڑوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران جنگ کے اثرات کے باعث ایندھن کی مد میں دی جانے والی سبسڈی ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس غیر معمولی اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے قومی بجٹس پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیا ہے، جہاں حکومتیں پہلے ہی غذائی اور توانائی کی بلند قیمتوں سے نبردآزما ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو نے ان ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے نچوڑ دیا ہے، جس سے درآمدات کو جاری رکھنا بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ، یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ ان ابتر معاشی حالات کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک ایک نئے اور خطرناک قرضوں کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بہت سے ممالک اپنے بیرونی قرضوں پر سود کی ادائگی کرنے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں، جس سے ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع حکمت عملی وضع کریں، بصورت دیگر انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔