LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی تحریک اور استعفیٰ کا مطالبہ

News Image
بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتیں اور طلبہ تنظیمیں ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
نئی دہلی: بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اس وقت شدید سیاسی اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب ملک بھر میں اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب مختلف سیاسی حلقوں نے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ مبصرین کے مطابق، انتخابی عمل میں شفافیت کے فقدان اور مبینہ ووٹ چوری کے الزامات نے ملکی جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں بشمول کانگریس کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے بھی موجودہ انتخابی فہرستوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے 2024 کی انتخابی فہرستوں کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نظام میں اصلاحات اور شفافیت لائے بغیر منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، اس لیے موجودہ متنازعہ اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، ملک کی مختلف طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کے گروپس نے بھی سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ان مظاہروں کو وسیع پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے جبکہ حکومتی حلقوں کی طرف سے ابھی تک اس صورتحال پر کوئی موثر دفاعی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں بڑھتا ہوا یہ تنازعہ آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن الیکشن کمیشن کے خلاف اپنی تحریک کو مزید تیز کرنے کا عزم رکھتی ہے۔