World
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی آبنائے ہرمز پیشکش پر ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر کی جانے والی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازع کے حوالے سے جلد ہی کوئی بڑا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کی جانے والی پیشکش کو ناکافی قرار دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات اور تجاویز موجودہ بحران کو ختم کرنے کے لیے ناکافی ہیں اور امریکہ اس معاملے پر مزید مؤثر اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خطے میں امریکی فوج کی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے خطے میں ہزاروں اضافی فوجی اور جنگی بحری بیڑے بھی تعینات کیے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع یا تو کسی معاہدے پر منتج ہوگا یا پھر اس کا فیصلہ کن انجام سامنے آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دباؤ کے بعد ایرانی حکومت شدید اقتصادی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسٹریٹجک گزرگاہ پر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کریں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال سفارتی سطح پر پیشرفت سست دکھائی دیتی ہے۔