LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں تیل کی ترسیل کے خطرات اور بحری جہازوں کی مشکلات

News Image
آبِ ہرمز کے اہم تجارتی راستے پر بحری جہازوں پر نامعلوم سمت سے حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اندھیرے میں اور بغیر ریڈیو مواصلات کے سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے انتہائی حساس اور اہم ترین تجارتی راستے آبِ ہرمز سے خام تیل کی ترسیل اب ایک انتہائی خطرناک مشن بن چکی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور بحری ذرائع کے مطابق اس آبی گزرگاہ پر گزرنے والے سپر ٹینکرز اور تیل بردار جہازوں کو شدید حفاظتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ نامعلوم سمت سے داغے جانے والے پراجیکٹائلس اور حالیہ حملوں کی زد میں آنے کے بعد جہاز رانی کمپنیوں نے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر اب بیشتر بحری جہاز اپنے ٹریکنگ سسٹمز، لائٹس اور ریڈیو مواصلات بند کر کے انتہائی خاموشی اور اندھیرے میں اس خطرناک علاقے کو عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال عملے کے لیے بھی شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہے کیونکہ وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع یا بیرونی رابطے کے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایک سپر ٹینکر میں آتش زدگی کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم اداروں اور امریکہ کی قیادت والے بحری مرکز نے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرے کی سطح کو انتہائی سنگین یعنی 'سویئر' (Severe) تک بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں تاکہ کسی بھی بڑے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ آبِ ہرمز دنیا بھر میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک شریان کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا عدم استحکام براہ راست عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتیں اور توانائی کے ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے اور توانائی کی سپلائی لائنز کو تعطل سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق تاحال انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔