Business
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، چین کی جانب سے برآمدات معطل
چین کی جانب سے اچانک ایندھن کی برآمدات معطل کیے جانے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے پہلے سے ہی دباؤ کا شکار عالمی توانائی کی مارکیٹ میں بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریبا دو فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ چین کی طرف سے ایندھن کی برآمدات کو فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق، اس اقدام نے پہلے سے ہی دباؤ کا شکار عالمی توانائی مارکیٹ کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت کا سامنا ہے۔ چین کے اس غیر متوقع فیصلے کے بعد تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، چینی حکام کی جانب سے اکتوبر کے مہینے کے لیے ایندھن کی برآمدات روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس کے اثرات فوری طور پر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر نظر آئے۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی خام تیل کے خریداروں اور سرمایہ کاروں میں ہلچل مچ گئی، اور قیمتیں اوپر کی طرف گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایشیا سمیت دیگر عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید تیزی کا امکان ہے۔
اس صورتحال نے عالمی معیشت کے لیے نئے چلیکش پیدا کر دیے ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ سے نبردآزما ممالک کو اب توانائی کی بلند قیمتوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو موجودہ عالمی توانائی بحران کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، جہاں جغرافیائی سیاسی تناؤ اور سپلائی کے مسائل پہلے ہی مارکیٹ کو غیر مستحکم کیے ہوئے ہیں۔ حکومتیں اور تجارتی ادارے اب متبادل ذرائع اور نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس صورتحال کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔