Business
فجیرہ میں ایندھن کی فراہمی بحال، ایشیا کو برآمدات میں اضافہ
متحدہ عرب امارات کے اہم تیل مرکز فجیرہ نے آبنائے ہرمز میں حالیہ خلل کے باوجود ایندھن کے تیل کی ترسیل کا عمل جزوی طور پر بحال کر دیا ہے۔ اس بحالی کے نتیجے میں ایشیائی منڈیوں کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی معروف فجیرہ آئل ٹرمینل بندرگاہ نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران اور سپلائی کے مسائل کے باوجود ایندھن کے تیل کی فراہمی کا نظام کامیابی سے بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، خطے میں کشیدگی اور ایرانی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے بعد فجیرہ کے تیل کے ذخائر نے ایک بار پھر رفتار پکڑ لی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں بالخصوص ایشیائی ممالک کے لیے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں عارضی بندشوں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے عالمی سطح پر انرجی سپلائی متاثر ہوئی تھی، لیکن فجیرہ کی انتظامیہ نے بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔ ایک اور پیش رفت میں، پاکستان سے بھی ایندھن کے تیل کی ایک بڑی کھیپ اس اہم اماراتی مرکز کی طرف روانہ کی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فجیرہ بحران کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور مارکیٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ تیسری سہ ماہی کے دوران متحدہ عرب امارات کی تیل کی درآمدات میں تین گنا اضافہ درج کیا گیا ہے جو خطے میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مثبت رجحان سے نہ صرف فجیرہ کی پوزیشن بحیثیت بین الاقوامی میری ٹائم اینڈ انرجی ہب مزید مستحکم ہوگی بلکہ ایشیائی ممالک کو درپیش توانائی کے بحران میں بھی کمی واقع ہوگی۔ صنعت سے وابستہ ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اگر حالات اسی امن و استحکام کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو سال کے اختتام تک تیل کی تجارت اپنی مکمل سابقہ سطح پر بحال ہو جائے گی اور اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔