World
کارنیل یونیورسٹی عصمت دری کیس: نیویارک کی گورنر کا بڑا قدم
گورنر نیویارک نے کیس کی نگرانی کرنے والے موجودہ پراسیکیوٹرز پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کے حوالے کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ کارنیل یونیورسٹی کے ایک فرٹرنٹی ہاؤس میں مبینہ عصمت دری کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیویارک کی گورنر نے کارنیل یونیورسٹی کے ایک فرٹرنٹی (fraternity) میں پیش آنے والے مبینہ عصمت دری کے واقعے کے سلسلے میں ایک خصوصی پراسیکیوٹر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی موجودہ پراسیکیوٹرز کی طرف سے کی جانے والی نگرانی پر سے اپنا اعتماد کھو چکی ہیں، جس کے بعد یہ اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت کے تحت اب اس حساس ترین مقدمے کی تحقیقات کی ذمہ داری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز کے سپرد کر دی گئی ہے۔ کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے طلباء اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا، اور انصاف کے حصول کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق، اٹارنی جنرل کا دفتر اب اس پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ فریق کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ گورنر کے اس قدم کو قانونی اور سماجی حلقوں میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے مقامی سطح پر ہونے والی تحقیقات سست روی کا شکار تھیں اور عوام کی طرف سے شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ متوقع ہے کہ نئی تحقیقات کے بعد اس مجرمانہ واقعے کے حقائق مزید کھل کر سامنے آئیں گے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباء تنظیموں نے بھی اس حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اٹارنی جنرل کی براہ راست نگرانی میں تحقیقات منصفانہ انداز میں انجام پائیں گی۔