World
جنوبی کوریا کا یوکرین کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
جنوبی کوریا نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگی قیدیوں کے تنازع پر معافی نہ مانگی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ صدر لی جے میungnya نے کییف پر کوریا کے خطے میں جنگ کو ہوا دینے کی کوشش کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
سیول: جنوبی کوریا کی حکومت نے یوکرین کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگی قیدیوں کے تنازع پر فوری طور پر معافی نہیں مانگی تو سیول کی جانب سے مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب جنوبی کوریا کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کییف کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ جنوبی کوریا کا یہ موقف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نئے بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے صدر لی جے میونگ نے یوکرین پر براہ راست الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کییف حکومت جان بوجھ کر کوریا کے خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ صدر لی جے میونگ کا کہنا تھا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اور جنوبی کوریا اپنے دفاع اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ حالیہ تنازع جنگی قیدیوں کے مبینہ امور اور دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی سے متعلقہ معاملات پر پیدا ہوا ہے۔ یوکرین کی جانب سے تاحال اس سنگین انتباہ پر کوئی باضابطہ جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس سفارتی محاذ آرائی کو فوری طور پر بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو اس کے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور اتحادی نیٹ ورکس پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔