World
ارجنٹائن میں مقامی قبائل کا غیر ملکیوں کے لیے زمین کھولنے کیخلاف احتجاج
ارجنٹائن کے مقامی قبائل نے بیونس آئرس میں صدر جیوویئر میلی کی جانب سے دیہی زمینیں غیر ملکی خریداروں کے لیے کھولنے کے بل کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے ان کے روایتی حقوق اور ملکی خود مختاری کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ملک کے مقامی قبائل اور روایتی باشندوں نے حکومت کی جانب سے ایک نئے بل کے نفاذ کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس متنازع بل کا مقصد ارجنٹائن کی زرعی اور دیہی زمینوں کی ملکیت کو غیر ملکی خریداروں کے لیے کھولنا ہے، جس پر قبائلی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف ان کی نسلوں پرانی زمینوں اور ثقافتی ورثے کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ ملک کی خود مختاری پر بھی ایک کاری ضرب ہے۔
صدر جیوویئر میلی کی حکومت معاشی اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں زمینوں کی ملکیت سے متعلق قوانین میں نرمی بھی شامل ہے۔ تاہم، ناقدین اور مقامی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ ان پالیسیوں کے منفی اثرات سب سے زیادہ غریب طبقے اور مقامی قبائل پر پڑیں گے۔ احتجاج کرنے والے افراد نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر واپس لے تاکہ مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ارجنٹائن کی زرعی زمینیں ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں بین الاقوامی کارپوریشنز یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سے زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور مقامی کسان اور قبائل اپنی ہی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ قبائلی رہنماؤں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور ملک بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔