World
ملائشیا میں روہنگیا مہاجرین کی حالت زار اور ملک بدری کا خطرہ
ملائشیا میں پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے اداروں کے وسائل میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے مہاجرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی اور ممکنہ ملک بدری کے خوف نے ان کی زندگی کو انتہائی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
کوالالمپور: ملائشیا میں مقیم روہنگیا اور دیگر مہاجرین اس وقت انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ملک میں ان کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی اور ممکنہ ملک بدری کے خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ مقامی سطح پر پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے رفاہی اداروں اور سپورٹ گروپس کے وسائل دن بہ دن سکڑتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان بے سہارا افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق روہنگیا پناہ گزینوں کو ملائشیا میں روزمرہ کی زندگی میں شدید ترین تعصب اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک بدری کے مسلسل خطرے اور حکومتی و عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی سختیوں کی وجہ سے ان مہاجرین کا جینا اجیرن ہو چکا ہے۔ بہت سے خاندان خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ملائشیا میں موجود پناہ گزینوں کے بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ میانمار میں جاری اندرونی حالات کے پیش نظر روہنگیا افراد کو واپس بھیجنا ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا نوٹس لے اور ملائشیا میں مقیم مہاجرین کے تحفظ کے لیے فوری اقداماتقائم کریں۔