Politics
نئی دہلی احتجاج: بھارتی پولیس نے اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا
نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے تقرر اور انتخابی عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے اپوزیشن سیاستدانوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں اور انتخابی کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے تنازع اور انتخابی امور کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے اپوزیشن سیاستدانوں اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ احتجاج ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور انتخابی نظام پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں کیا جا رہا تھا جس نے دارالحکومت کی فضا کو گرما دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب مظاہرین نے مقررہ حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دفعہ 143 کی مبینہ خلاف ورزی پر درجنوں سیاسی کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ گرفتار کیے جانے والے افراد کا مؤقف تھا کہ انہیں پرامن احتجاج کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے جسے ریاست طاقت کے زور پر دبا رہی ہے۔ احتجاجی رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سرکاری اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے پولیس فورس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی کے اس واقعے نے ملک بھر میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا پولیس نے شہر کے حساس مقامات پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔