LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: سزائے موت کی ناکام کوشش کے بعد قیدی کی رہائی کا مطالبہ

News Image
امریکہ میں سزائے موت کے نفاذ کی دو ناکام کوششوں کے بعد زندہ بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک تشویشناک حالت میں ہیں۔ ان کے وکیل نے انسانی بنیادوں پر فوری طور پر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ میں قیدیوں کے حقوق اور سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے جب حکام کی جانب سے سزائے موت دینے کی دو مسلسل کوششیں ناکام ہو گئیں۔ موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کرسٹا پائیک نامی قیدی سزائے موت کے لیے دیے جانے والے مہلک انجکشن کے باوجود زندہ بچ گئی ہیں اور اس وقت ان کی طبی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس سنسنی خیز واقعے کے بعد کرسٹا پائیک کے قانونی نمائندوں نے عدالتی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ دو بار اس سزائے موت کے اذیت ناک عمل سے گزرنا اور پھر ناکام ہونا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ کرسٹا پائیک کے وکلاء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاست کی جانب سے مقررہ سزائے موت پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد اب اس سز مزید طویل کرنا یا دوبارہ اس تکلیف دہ عمل کو دہرانا انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔ قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ ان حالات میں قیدی کو مزید قید میں رکھنا یا دوبارہ سزائے موت دینے کی کوشش کرنا قانون اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور قیدی کی جان بچانے کے لیے رہائی کے احکامات جاری کرے تاکہ اس غیر معمولی اور المناک صورتحال کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ بھر میں سزائے موت کے طریقہ کار یعنی مہلک انجکشن کے استعمال کے خلاف آوازیں ایک بار پھر بلند ہو گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی سول سوسائٹی کے اداروں نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو اس غیر انسانی نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کرسٹا پائیک کا یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں امریکی عدالتی نظام اور سزائے موت کی قانون سازی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وکیل کی جانب سے رہائی کا یہ مطالبہ قانونی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔