World
برازیل انتخاب: آخری مناظرہ منسوخ اور سپریم کورٹ کے باہر بم کی افواہ
برازیل میں صدارتی انتخابات سے قبل اہم ترین آخری مناظرہ منسوخ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ کے باہر بم کی افواہ نے بھی سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
برازیل میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ملک کے صدارتی انتخابات سے قبل ہونے والا آخری اہم ترین مناظرہ آخری وقت میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں اور ووٹرز کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ انتخابی مہم اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ برصغیر اور لاطینی امریکہ کی اس اہم معیشت میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے اور ہر امیدوار ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ذرائع کے مطابق برازیل کے صدر اور ان کے اہم اپوزیشن امیدوار نے اس آخری مناظرے میں شرکت کرنے سے گریز کیا، جس کی وجہ سے منتظمین کو یہ پروگرام منسوخ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ صدارتی امیدواروں کی جانب سے مباحثے سے راہ فرار اختیار کرنے پر عوام اور میڈیا کی طرف سے بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ دونوں بڑے حریف امیدواروں کے اس اقدام کو انتخابی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے براہ راست سیاسی نقصان سے بچا جا سکے۔
اس انتخابی گرما گرمی کے دوران دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتظامات کو بھی انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر بم کی ایک افواہ پھیل گئی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کارروائی کی۔ اس سکیورٹی الرٹ کے بعد عدلیہ اور اہم سرکاری عمارات کے گردونواح میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل کے یہ صدارتی انتخابات ملکی تاریخ کے انتہائی اہم ترین انتخابات میں شمار ہو رہے ہیں جہاں معاشی مسائل، سماجی تقسیم اور سکیورٹی کے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مناظرے کی منسوخی اور اس قسم کے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کمیشن اور سکیورٹی اداروں پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پولنگ کے عمل کو پرامن اور شفاف طریقے سے مکمل کروائیں۔