World
چلی میں طلباء احتجاج اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں
چلی کے دارالحکومت میں سینکڑوں طلباء کے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھرپور استعمال کیا۔
چلی کے دارالحکومت میں اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب طلباء کے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے نے پرتشدد جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی۔ سینکڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے والے طلباء اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی اس محاذ آرائی نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکام اور مظاہرین کے درمیان جاری اس کشمکش کے نتیجے میں عام زندگی کا نظام بھی وقتی طور پر متاثر ہوا ہے۔
مظاہرین کو قابو میں لانے اور حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے چلی کی رائٹ پولیس نے انتہائی سخت اقدامات کا سہارا لیا۔ دارالحکومت کے مرکزی حصوں میں مظاہرین کے جم غفیر کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور واٹر کینن کا بھرپور استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں اطراف سے کشیدگی بڑھنے کے بعد ماحول کافی دیر تک میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا جہاں سڑکوں پر دھوئیں کے بادل چھائے رہے۔
واضح رہے کہ چلی میں ماضی میں بھی طلباء کی جانب سے مختلف پالیسیوں اور تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے لیے احتجاجی تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں طلباء کے مطالبات اور حکومت کے درمیان پائے جانے والے خلیج کی وجہ سے یہ مظاہرے ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ کسی بھی بڑے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔