LIVE
Loading Breaking News...

اریٹیریا اور ایتھوپیا کے تعلقات میں کشیدگی، سفارتی تعلقات منقطع

News Image
اریٹیریا نے ایتھوپیا کے دارالحکومت میں اپنا سفارت خانہ بند ہونے کے بعد باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور تیگرے کے تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
افریقہ کے حوزہِ قرن میں ایک بار پھر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں اریٹیریا کی حکومت نے ایتھوپیا کے ساتھ اپنے تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان یہ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ادیس ابابا کی جانب سے اسمارا میں واقع اریٹیریا کا سفارت خانہ بند کر دیا گیا۔ اس اچانک اقدام نے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ دونوں ممالک ماضی کے تلخ تنازعات بالخصوص تیگرے کی جنگ کے بعد سے نازک تعلقات کے دور سے گزر رہے تھے۔ سفارتی حلقوں میں اس فیصلے کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام اور سیاسی محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یاد رہے کہ اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ ماضی میں دہائیوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد سفارتی راہیں کھلی تھیں اور دونوں ممالک نے علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، تیگرے کے تنازع کے دوران دونوں ممالک کی پوزیشنز میں نمایاں تبدیلیاں آئیں اور اگرچہ وہ ایک وقت میں مشترکہ دشمن کے خلاف اتحادی بنے تھے، لیکن بعد میں پیدا ہونے والے تضادات اور انتظامی اختلافات نے دونوں حکومتوں کے درمیان خلیج کو مزید چوڑا کر دیا۔ حالیہ سفارت خانے کی بندش اور اس کے ردعمل میں اریٹیریا کا یہ سخت قدم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ کا واضح ثبوت ہے۔ بین الاقوامی براداری اور علاقائی تنظیموں نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی تعلقات کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت اور تجارت پر اثر انداز ہوگا بلکہ اس سے پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ افریقی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پس پردہ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور خطے میں کسی بھی بڑی عسکری یا سیاسی تصادم کو روکا جا سکے۔